نئی دہلی، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے پلوامہ اور اري حملے کی تحقیقات کی نگرانی کرنے اور پتھربازوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی مفاد عامہ کی عرضی کو ٹھکرا دیا ہے۔ان معاملات کی تحقیقات کورٹ کی نگرانی میں کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔اس درخواست میں حال ہی میں جموں کشمیر کے پلوامہ اور 2016 میں اري میں ہوئے حملے میں مبینہ انتظامی ناکامی کی عدالتی جانچ کی مانگ کی گئی تھی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر کسی بھی طرح سے حملہ کرنے والوں پر سخت قانونی اقدامات اٹھائے جانے کی مانگ کی گئی تھی۔یہ عرضی ایڈووکیٹ ونیت دھانڈا نے دی تھی۔
اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی ہندوستانی شہری نے پاکستان واقع دہشت گردوں کی مدد کی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی جائے،ساتھ ہی انہوں نے کورٹ سے اپیل کی تھی کہ ’ملک مخالف سرگرمیوں میں فعال طور پر شامل‘ آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے رہنماؤں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی بھی معلومات لی جائے۔اس کے علاوہ اس میں حکومت سے بھی اپیل کی گئی تھی کہ حریت رہنماؤں کی سیکورٹی واپس لی جائے اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے آپریشن پر بھی روک لگائی جائے۔بتا دیں کہ 14 فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے،یہ حملہ ایک خودکش حملہ آور نے کیا تھا،اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے لی تھی۔عرضی میں کارگل جنگ کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ 1999 کے کارگل جنگ کے بعد جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے لئے پوزیشن اور خراب ہو گئی ہے،1999 کے بعد سے اب تک ملک بھر میں 4000 جوانوں کی جان گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست میں دہشت گردی اور سیاست تائید دہشت گردی اپنے عروج پر ہے اور نوجوانوں کو بہکا کر اپنے ہی سیکورٹی فورسز پر حملے کے لئے اکسایا جا رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا تھاکہ جموں و کشمیر کے مذہبی رہنما اور سیاستدان ریاست کو غیر مستحکم کرنے اور نوجوانوں کو الجھانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں،وہ نوجوانوں کو آزاد جموں و کشمیر کا جعلی خواب دکھا رہے ہیں۔اے پی ایچ سی جیسی سیاسی تنظیم پاکستان تائید تنظیموں کے ساتھ فعال طور پر مل کر ریاست کو غیر مستحکم کرنے میں بہت منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ مرکزی حکومت ان سرگرمیوں کو خاموش تماشائی بنے ہوئے دیکھ رہی ہے اور ریاست میں دہشت گردی کو بڑھانے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہے۔